Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

قسط 2: یادِ ہجرت۔۔۔ ایک نئی زندگی کی حقیقت




قسط 2: یادِ ہجرت۔۔۔ ایک نئی زندگی کی حقیقت

(ایک ماں کی زبانی، 1947 کی داستان)


میری پہچان

میرا نام زینب ہے…
میں جلندھر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی تھی…
سادہ، خوشحال زندگی…
میرے شوہر، اور میرے تین بیٹے…
سلیم، کلیم، اور وسیم
وسیم سب سے چھوٹا تھا… صرف تین ماہ کا۔


آزادی یا قیامت؟

1947 میں پاکستان کے آزاد ہونے کا اعلان ہوا —
مگر ہمارے لیے وہ آزادی نہیں، قیامت تھی۔

ہمارا جرم صرف یہ تھا کہ ہم مسلمان تھے۔
جن لوگوں کے ساتھ ہم نے بچپن گزارا تھا…
جن کے ساتھ کھیل کر جوان ہوئے…
جن کے ساتھ روٹی بانٹی…
اچانک وہی ہمارے دشمن بن گئے۔


حملے کی پہلی آہٹ

محلے کی گلیوں میں آگ لگ گئی۔
دروازے ٹوٹنے لگے۔
عورتیں چھتوں سے کودنے لگیں…
اور ہم بھاگ نکلے۔

نہ کوئی گاڑی…
نہ کوئی راستہ معلوم…
بس ایک ہی راستہ — لاہور۔


سفر کی شروعات

میں نے وسیم کو گود میں لیا،
سلیم اور کلیم ہاتھوں سے جُڑے ہوئے میرے ساتھ چلتے رہے۔
میرے شوہر پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ہر آہٹ پر پہرہ دیتے رہے۔

راستے میں ایک ندی کے کنارے ہم رُکے۔
عورتیں پتھر پر آٹا گوندھ رہی تھیں، روٹیاں سینک رہی تھیں…
مرد اِدھر اُدھر نظریں دوڑا رہے تھے کہ کہیں حملہ نہ ہو جائے۔


حملہ آور آ گئے

میں وسیم کو لوری دے رہی تھی،
کہ اتنے میں ایک آواز آئی —
"بھاگو!! وہ آ گئے!!"

پہلے دھواں اٹھا…
پھر شور…
پھر چیخیں…

آنکھوں کے سامنے… ایک ہجوم اُمڈا…
جن کے ہاتھوں میں کرپانیں تھیں… آنکھوں میں خون۔

میرے شوہر نے کلیم اور سلیم کو پیچھے دھکیلا:
"زینب! بچوں کو لے کر بھاگو!!"


میرے بچوں کی موت

پر کچھ بھی سننے سے پہلے —
کلیم کا گلا کاٹا جا چکا تھا۔
سلیم کے سینے میں نیزہ اُتر گیا تھا۔

میرے قدم جیسے زمین سے جُڑ گئے۔
میں چیخی… دوڑی…
وسیم کو سینے سے لگایا…

لیکن وہ تین مہینے کا جسم… میری قمیض سے چھلک گیا۔
ایک کرپان اس کے ننھے سینے سے آر پار ہو گئی۔

میں صرف چیختی رہی —
نہ کسی نے سُنا،
نہ کسی نے روکا۔


خالی گود

میرے شوہر نے حملہ آور کو دھکا دیا،
خود زخمی ہو گئے،
مگر مجھے گھسیٹتے ہوئے لے کر نکلے۔

ہماری گود خالی ہو چکی تھی۔

راستہ خاموش ہو گیا تھا۔
ندی کا پانی لال ہو چکا تھا۔
اور میرے سینے سے لگے وسیم کا کپڑا گیلا تھا — خون سے۔


لاہور میں زندگی

ہم جیسے تیسے لاہور پہنچے،
مہاجر کیمپ میں جگہ ملی۔

پہلے شوہر بھی رویا کرتے تھے،
پھر چپ ہو گئے۔
اور چند مہینوں بعد، خاموشی ہی اُن کی موت بن گئی۔

اب میں اکیلی رہ گئی…
بچوں کے بغیر… شوہر کے بغیر… اور ماں ہونے کے بغیر۔


میرا نظریہ

لوگ کہتے ہیں، پاکستان ہمیں آزادی سے ملا ہے۔
میں کہتی ہوں، پاکستان مجھے سلیم، کلیم اور وسیم کی لاشوں کے بدلے ملا ہے۔

آج بھی اس دروازے کے باہر بیٹھتی ہوں…
جہاں سبز جھنڈے لہرائے جاتے ہیں،
لوگ جشن مناتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں…

اور میں… خاموش بیٹھ کر اپنے بچوں کی خوشبو تلاش کرتی ہوں…
ہوا جب چلتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ سلیم کی ہنسی آ رہی ہے…
جب بچے کھیلتے ہیں، تو کلیم کے قدموں کی چاپ محسوس ہوتی ہے…
اور جب کوئی ماں لوری دیتی ہے، تو میرا دل وسیم کو ڈھونڈنے لگتا ہے۔


نوجوان سے ملاقات

ایک دن ایک نوجوان میرے پاس آیا…
ہاتھ میں سبز جھنڈا، آنکھوں میں چمک،
بولا:
"نانی، آپ کی قربانی کی بدولت ہمیں پاکستان ملا ہے!"

میں ہنس پڑی… پھر آنکھیں نم ہو گئیں…
میں نے کہا:

"بیٹا، میں تو زندہ ہوں…
قربانی تو وہ تھیں،
جن کی قبروں کے نشان بھی نہیں ملے…
جن کی لاشیں درختوں سے لٹکائی گئیں…
جن کے آخری الفاظ بھی اُن کے ساتھ دفن ہو گئے…
جن کی ماں آج بھی ہر نماز کے بعد اللہ سے بس ایک سوال کرتی ہے:
میری قربانی ضائع تو نہیں گئی؟"


آخری پکار

میں زینب ہوں…
میری آنکھیں آج بھی جلندھر کی مٹی کو ترستی ہیں۔
میرا دل آج بھی راوی کے کنارے اٹکا ہوا ہے۔
اور میری روح… آج بھی اپنے بچوں کو پکارتی ہے:

"سلیم… کلیم… وسیم… تم مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے…؟"



Post a Comment

0 Comments