قسط 1: یادِ ہجرت۔۔۔ ایک نئی زندگی کی قیمت
1947 کی ہجرت پر مبنی ایک مشترکہ خاندانی کہانی
لاہور کی پرانی حویلی کی چھت پر…
شام کا وقت تھا… لاہور کی پرانی حویلی کی چھت پر دو بوڑھے بیٹھے تھے۔
دونوں کے چہروں پر جھریاں تھیں، لیکن آنکھوں میں ایک ایسا طوفان جو ابھی تھما نہیں تھا۔
اکبر نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا،
"مجید… تمہیں امرتسر کا ہمارا گھر یاد ہے؟ وہ نیم کا درخت… جس کے نیچے اماں چارپائی ڈال کر بیٹھتی تھیں؟"
مجید نے سر ہلایا۔
"کبھی نہیں بھولا… اور وہ چھوٹا کنواں؟ جہاں ہم چھپ چھپ کر نہاتے تھے؟"
دونوں کے چہروں پر ایک لمحے کے لیے ہنسی سی آئی… لیکن فوراً غائب ہو گئی۔
وہ آخری رات…
اکبر کی آواز بھاری ہو گئی،
"لیکن وہ آخری رات… کبھی نہیں بھولتی۔"
اُس رات… امرتسر میں آگ کے شعلے آسمان کو چیر رہے تھے۔
گھروں سے چیخیں نکل رہی تھیں… اور گلیوں میں خون بہتا جا رہا تھا۔
اکبر نے بتایا،
"ہم سب مسجد میں چھپے ہوئے تھے۔ ابا جی نے کہا تھا، 'بس صبح ہوتے ہی نکلنا ہے… ورنہ یہاں زندہ نہیں بچیں گے۔'"
صبح آئی، لیکن سورج نہیں نکلا… صرف دھواں تھا۔
قافلے کا سفر
قافلہ نکلا… عورتیں بچوں کو سینے سے لگائے چل رہی تھیں، مرد بندوقیں سنبھالے… اور بچے؟
وہ بس چل رہے تھے، جیسے خواب میں۔
پہلا زخم
اکبر کی چھوٹی بہن حلیمہ… صرف دس سال کی… قافلے کے ہجوم میں بچھڑ گئی۔
"میں نے پلٹ کر دیکھا… تو بس اس کا دوپٹہ اڑتا ہوا نظر آیا۔
چیخا، بھاگا، ماں نے ہاتھ پکڑا، کہا 'اکبر! اگر گیا تو تم بھی چلے جاؤ گے!'
اور وہ لمحہ… میری زندگی کا سب سے کمزور لمحہ تھا۔
میں پلٹ نہیں سکا۔"
وہ دوپٹہ… آج تک اکبر کے خوابوں میں لہراتا ہے۔
ندیم کا آخری سفر
مجید نے اپنی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا،
"تمہیں ندیم یاد ہے نا…؟ چھ سال کا وہ بچہ، جو میرے ساتھ سفر میں تھا؟
اس کی ماں کو بلوائیوں نے مار دیا تھا۔ وہ تین دن میرے ساتھ رہا…
میں نے اس کی بھوک، اس کی پیاس، اس کے آنسو سہے…
پھر ایک صبح… وہ بس چپ ہو گیا۔
ہم دریا کنارے تھے…
میں نے اپنے ہاتھوں سے اسے مٹی میں دبا دیا…"
اکبر نے آنکھیں بند کر لیں۔
"ہم تو آئے تھے پاکستان… لیکن خود کو پیچھے ہی دفن کر آئے تھے مجید۔"
لاہور پہنچنے کے بعد
لاہور پہنچے تو… کچھ نہیں تھا۔
نہ اپنا گھر، نہ سونا، نہ وہ تصویریں، نہ کھلونے…
صرف جسم تھے… اور یادیں۔
اکبر کے ابا جی ایک پرانے اسکول میں مالی کی نوکری کرنے لگے۔
ماں چار گھروں میں برتن دھوتی تھی…
اور بچے؟ وہ سکولوں میں نہیں، سڑکوں پر کھیلتے تھے۔
اماں کی خواہش
مجید نے بتایا،
"ہم تو بچ گئے، لیکن اماں… صرف چھ مہینے زندہ رہیں۔
ایک دن شام کو چپکے سے کہا،
'مجھے میرے گھر لے چلو… میں وہ نیم کا درخت دیکھنا چاہتی ہوں۔'
میں نے چپ کر کے ان کے ہاتھ تھامے،
اور کہا:
'اماں… پاکستان بھی ہمارا ہے۔'
لیکن وہ مسکرا کر بولیں:
'نہیں پتر… ہم وہاں دفن ہیں، جہاں ہم پیدا ہوئے تھے…
یہاں تو ہم بس زندہ ہیں۔'"
قربانی کا احساس
اکبر کی آنکھ سے آنسو گرا۔
"کبھی کبھی سوچتا ہوں مجید…
یہ وطن جو ہمیں ملا…
ہم نے اس کے لیے صرف گھر نہیں چھوڑا تھا…
ہم نے خود کو پیچھے دفن کیا تھا۔
اپنی بہنوں کو، بچوں کو، ماں باپ کو…
ان کی قبریں، ان کی آوازیں… سب کچھ۔"
پوتے کی تقریر
تب نیچے صحن میں اکبر کا پوتا آیا،
"دادا جان! اسکول میں پاکستان کے یومِ آزادی پر تقریر کرنی ہے، کچھ بتائیں؟"
اکبر نے اُس کے ہاتھ پکڑے، آنکھوں میں نمی تھی…
"بیٹا… صرف اتنا کہنا کہ
یہ وطن ہمیں طشتری میں نہیں ملا…
یہ ہمیں ان معصوم ہاتھوں کی لاشوں پر ملا،
جنہوں نے ماں کو پکارا، مگر ماں نہ آئی۔
جن کی قبریں بھی نشان کے بغیر ہیں…
اور جن کی آنکھیں آج بھی ہم سے سوال کرتی ہیں،
کہ ہم نے اُن کی قربانی کو یاد رکھا… یا صرف چھٹی منا لی۔"
پوتا خاموش ہو گیا… نیچے چپ چاپ چلا گیا۔
اختتام… مگر کہانی باقی ہے
اوپر چھت پر صرف خاموشی تھی…
اور دور، لاہور کی فضا میں جیسے آج بھی وہ دوپٹہ لہرا رہا تھا…
ندیم کی ہنسی گونج رہی تھی…
اور اکبر، مجید… پھر سے اپنی زمین کی طرف پلٹنے لگے تھے،
جہاں وہ خود کو دفن کر آئے تھے۔
آخری پیغام
اگر یہ وطن سانس بن کر ہمیں ملا ہے…
تو کوئی اپنی آخری سانسیں چھوڑ کر گیا ہے۔
مت بھولو… کیونکہ وہ بھولے نہیں۔
ا
0 Comments